بنگلورو، 28ستمبر (ایس او نیوز ) مرکزی حکومت کی طرف سے لائے گئے زرعی قوانین واپس لینے کی مانگ کو لے کر کسان تنظیموں اور دیگر اداروں اور انجمنوں کی آواز پر منائے گئے بھارت بند کا ملا جلا اثر دیکھنے میں آیا۔ حالانکہ بند کے دوران بیشتر تجارتی مقامات کھلے رہے ۔لیکن کسان تنظیموں اور اپوزیشن پارٹیوں کے کارکنوں کی طرف سے مرکزی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرہ بنگلورو سمیت ریاست کے تقریبا تمام اضلاع میں کیا گیا۔
بنگلورو میں ٹاؤن ہال سے میسور بینک سرکل تک ایک بڑا جلوس نکالا گیا جس میں ہزاروں کی تعداد میں کسانوں اور سماجی و سیاسی کارکنوں نے شرکت کی اور مرکزی حکومت کے خلاف اپنے شدید غم و غصہ کا مظاہرہ کیا۔ بند کے دوران تجارتی سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری رہیں۔ دکانیں تعلیمی ادارے وغیرہ معمول کے مطابق کھلے رہے۔
بنگلورو میں کسانوں نے بسوں کو روک کر احتجاج کیا تو دھارواڑ میں کسانوں کی طرف سے بھینس لا کر سڑک پر چھوڑ دیئے گئے تا کہ راستہ روکو احتجاج کیا جا سکے۔ ہا سن میں کسانوں نے سڑک پر کھانا پکا کر احتجاج کیا ۔ اس احتجاج میں دلت ، مزدور اور ٹریڈ یونین کی دیگر تنظیموں نے بھی کسانوں کا ساتھ دیا اور ان کے بند میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ ایس ایس ایل سی کا سپلمنٹری امتحان حسب معمول کروایا گیا ۔ بنگلورو کے علاوہ میسور و، بیلگاوی ، دھارواڑ ، کلبرگی ، بلاری، ہا سن، بیدر ، چامراج نگر ، منڈیا ، چکبالا پور،کولار،شیموگہ اور دیگر اضلاع میں کسانوں کی طرف سے مظاہرے اور راستہ رو کے جانے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں ۔
بنگلورو کے مور یہ سرکل میں احتجاج کرنے والے کروبرا سنگھا کے صدر شانتا کمار اور دیگر قائدین کو گرفتار کیا۔ ڈاکٹر راج کمار ابھیمانی سنگھا کے صدر سارا گوند نے کہا کہ کسانوں کو نقصان پہنچانے کے مقصد سے مرکزی حکومت نے جو قانون لائے ہیں ان کی مخالفت میں ان کا سنگھا کسانوں کے ساتھ رہے گا ۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کی اخلاقی تائید کا اعلان کرنے کی بجاۓ ان کے شانہ بشانہ میدان میں اتر نا چاہئے ۔ پولیس نے سارا گووند ،شیورامے گوڑا، رعیت سنگھا کے صدرکوڈی ہلی چند را شیکھر اور دیگر کو گرفتار کیا ۔
کوڈی ہلی چندراشیکھر نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ عام لوگوں کو اس احتجاج کا مقصد ہی سمجھ میں نہ آسکا ہے ۔ اگر وہ سمجھ لیتے تو آج کا بند صد فیصدمکمل ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت پورے ملک کا پرائیوٹائزیشن کرنے پر تل گئی ہے ۔ زرعی شعبہ کو بھی اسی منصوبے کے تحت نشانہ بنایا گیا ہے ۔عوام اگر اس ملک کو بچانا چاہتے ہیں تو انہیں اس احتجاج کا ساتھ دینا چاہئے تھا ۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ عوام کو حالات کی سنگینی کا احساس نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دیہی علاقوں میں بند کی عوام نے تائید کی ہے لیکن افسوس کہ بنگلورو میں عوام نے اس بند پر کوئی توجہ نہیں دی ۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی طرف سے اگر کسانوں کے اس احتجاج کو کچلنے کی کوشش کی گئی تو آنے والے دنوں میں اس احتجاج میں اور زیادہ شدت لائی جائے ۔ گی ۔
ہسور میں کنڑا چلوولی لیڈ رواٹال ناگراج نے کرناٹک تامل ناڈو سرحد پر راستہ روک کر احتجاج کیا پولیس نے انہیں گرفتار کرلیا۔ میسور میں بند کا کوئی خاص اثر نہیں دیکھا گیا ۔ رعیت تنظیموں نے صبح میں احتجاجی مظاہرہ کیا پولیس نے ان کو کچھ دیر میں منتشر کر دیا۔ چترادرگہ میں کسانوں نے راستہ روکواحتجاج کر کے اپنے غم وغصہ کا اظہار کیا۔ ہاسن بس اسٹانڈ کے باہر بسوں کو روکنے کسانوں کی کوشش کو ناکام بنا کر پولیس نے کسان رہنماؤں کوگرفتار کر لیا۔ بجز بی جے پی دیگر جماعتوں کے کارکنوں نے احتجاج میں حصہ لیا اور وہ جلوسوں میں شامل ہوئے ۔